جے پور، 22؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) ان اطلاعات کے بعد کہ سنیچر کو وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ پر کابینہ کی میٹنگ میں تمام وزیروں نے اشوک گہلوت کو اپنے استعفے سونپ دیئے تھے، اتوار کو گہلوت کابینہ میں 15؍ نئے وزیروں کی حلف برداری عمل میں آئی جن میں 11؍ کابینی درجے کے وزیر اور4؍ وزرائے مملکت ہیں۔ نئے وزیروں کی شمولیت 2023ء کے انتخابات کو پیش نظر رکھ کر کی گئی ہے جس کا اشارہ وزیراعلیٰ اشوک گہلوت کے اس بیان سے مل گیا کہ 2023ء میں ایک بار پھر کانگریس ہی راجستھان میں حکومت بنائےگی۔ سابق نائب وزیراعلیٰ سچن پائلٹ کی قیادت میں18؍ اراکین اسمبلی کی بغاوت کے 16؍ ماہ بعد ہونے والی کابینہ کی اس توسیع پر خود سچن پائلٹ نے بھی اطمینان کااظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پوری ریاست میں مثبت پیغام گیاہے۔ انہوں نےبتایا کہ وزارتی کونسل میں دلتوں، درج فہرست قبائل اور خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ پارٹی جو ذمہ داری دیگی اسے وہ نبھائیں گے، پائلٹ نے واضح کیا کہ راجستھان کانگریس میںکسی طرح کی کوئی گروہ بندی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ نئی کابینہ میں سچن پائلٹ کے 5؍ حامی بھی شامل ہیں۔ رمیش مینا اور وشویندر سنگھ، جنہیں گزشتہ سال کابینہ سے برطرف کر دیا گیا تھا،ان کی واپسی ہیمنت چودھری کے ساتھ کابینی درجے کے وزیر کے طور پرہوئی ہے۔ برجیندر سنگھ اولا اور مراری لال مینا کو وزیر مملکت بنایاگیاہے۔ کابینہ میں توسیع سے قبل وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے 2023ء کے اسمبلی الیکشن کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ راجستھان میں ایک بار پھر کانگریس ہی حکومت بنائے گی۔ تمام نئے وزیروں کو مبارکباد دینے کیلئے ٹویٹر کا استعمال کرتے ہوئے گہلوت نے کہا ہے کہ متحد رہ کر وہ عوام کے اس اعتماد کو برقرار رکھیں گے جس کا اظہار انہوں نے کانگریس کو اقتدار سونپ کر کیا ہے۔ کابینہ میں ایس سی ایس ٹی کی نمائندگی میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس ذرائع نے کہا ہے کہ یہ 2023ء کے الیکشن کو ذہن میں رکھ کر کیاگیاہے۔ پارٹی اس بات کی کوشش کریگی کہ 2018ء کی طرح ایک بار پھر اسے واضح اکثریت حاصل ہو۔ یاد رہے کہ سابق اسمبلی الیکشن میں ایس سی ایس ٹی کی زیادہ ترسیٹیں کانگریس نے جیتی تھیں جس کی وجہ سے وہ بی جےپی کو پیچھے چھوڑنے میں کامیاب رہی تھی۔ اتوار کو جن 15؍ وزیروں نے حلف لیا ان میں ۴؍ درج فہرست ذات سے اور ۳؍ درج فہرست قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی طرح اب گہلوت کابینہ میں کُل ۳؍ خواتین ہوگئی ہیں۔